Fun Mela


Full Time Mouj Masti Halla Gulla
 
HomeFAQSearchMemberlistUsergroupsRegisterLog in
Latest topics
» Kissing Pictures
Mon 1 Jul 2013 - 17:27 by qureshi007

» Funny Pictures
Mon 1 Jul 2013 - 17:25 by qureshi007

» manpasand shairi
Fri 31 May 2013 - 18:31 by Admin

» Newbie Introductions
Thu 9 May 2013 - 16:12 by andleeb

» Beauty Tips
Mon 22 Apr 2013 - 8:02 by Nightrider

» All Kind Of "Jokes"
Mon 22 Apr 2013 - 7:54 by Nightrider

» Fun Mela Pe Online anay se pehlay Ap kia ker rahay tha????
Mon 22 Apr 2013 - 7:52 by Nightrider

» Assalam-o-Alekum
Mon 22 Apr 2013 - 7:51 by Nightrider

» Pakistani Tv And Media
Mon 22 Apr 2013 - 7:47 by Nightrider


Share | 
 

 محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Ali_shan
1 Star
1 Star
avatar

Posts : 84
Points : 94
Reputation : 4
Join date : 19.04.2013
Age : 24
Location : Lahore

PostSubject: محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم   Mon 22 Apr 2013 - 6:54

Back to top Go down
View user profile
Ali_shan
1 Star
1 Star
avatar

Posts : 84
Points : 94
Reputation : 4
Join date : 19.04.2013
Age : 24
Location : Lahore

PostSubject: Re: محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم   Mon 22 Apr 2013 - 7:00

فضا میں بے نام سی اداسی تیر رہی تھی۔ یوں جیسے احساس کی شبنم سارے منظر کو دھندلا دے… ایک نہ محسوس ہونے والا دکھ دل کے تاروں کو چھیڑ کر روح تک میں ایک حشر سا برپا کر ڈالے… زندگی کی بے سرو سامانیاں بَین کرتی ہی چلی جائیں اور تقدیر کی کتاب لکھ کر بند کردینے والا بس مسکراتا ہی رہے۔
ربیعہ کی یہاں سے وہاں تک ویران اور بنجر زندگی بھی ایسی ہی کسی بے حسی کا شاخسانہ تھی۔ منظر بدلتے رہتے…کردار بدلتے رہتے مگر ایک دکھ، جو اب صدیوں پر محیط لگتا…اپنی جگہ ساکت تھا…یوں جیسے مسمرائز کردیا گیا ہو…غیر معینہ مدت کے لیے کسی طلسم کی تاثیر سے جامد کردیا گیا ہو…اسی دکھ کا احساس جب روزن مانگتا، وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی…روح سسکنے لگتی…تمنائیں بَین کرنے لگتیں مگر ظاہر داری کا بھرم زبان بندی کے احکامات صادر کرتا۔ اس کے اندر کی گھٹن بڑھ جاتی،سناٹے دور دور تک پھیل جاتے مگر لب، لب ساکت رہتے… اسی حکمِ زباں بندی کے سبب…ظاہر داری اور مجبوریوں کے غلاف کی تہیں اور دبیز ہوتی چلی جاتیںتو یہ اداسی ربیعہ کو قنوطیت عطا کرتی…ایسی قنوطیت جو اسے سارے عالم سے بیزار کرجاتی…ارد گرد بکھرے انسانوں کے ہجوم سے منہ پھیر لینے پر اکساتی …اور کبھی رب کو پکارنے، اس سے بہت شدت سے سکونِ دل طلب کرنے پر مجبور کر جاتی تو وہ یونہی چھت کی کھلی ٹھنڈی فضا میں آکر تادیر بے مقصد بیٹھی رہتی… تا حدِ نگاہ پھیلے آسمان کو تکتی یا پھر اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے ہی اُلجھ جاتی… اور کبھی کبھی رب سے شکوہ کرنے بیٹھ جاتی۔
’’یامالک! زیست کی تمام تر اُلجھنیں، سارے مصائب صرف میرے ہی لیے کیوں؟،،
یارب العالمین! تُو، تو کُل پر قادر ہے…کرشمے دکھاتا ہے، معجزے رُونما کرسکتا ہے تو اے پروردگار! صرف ایک کسی قبولیت کی مناجات کے طفیل، میری روح پر دھری ان مصائب کی سِلوں کو پگھلا دے، یااللہ میرے اندر بکھرتے ان دکھوں کی چادر کو مزید پھیلنے سے پہلے سمیٹ دے۔ الہ العالمین! تُو، تو دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے، واقف ہے میری اذیتوں سے…جو دل پر زخم ڈال چکی ہیں، روح تک کو چھید چکی ہیں، کسی ایک گھڑی کو پکڑ میں آجانے والی دعا کے طفیل ان زخموں کو بھر دے…زیست کی ان کٹھنائیوں سے درج میرا مقدر بدل دے۔ صبر کی قوت شکر کی طاقت کو اس کٹھن مسافرت کے لیے زادِ راہ بنا دے۔
محبت…محبت…محبت…
میری روح توجہ کے چند سکوں کی طلب گار ہے۔ محبت کی ایک گھڑی کی پیاسی ہے۔ میرا وجود چاہت کا تمنائی ہے… سو دل کے اس تپتے صحرا پر محبت کی چند بوندیں…
پروردگار! تجھ سے کچھ زیادہ تو طلب نہیں کیا میں نے… میری کل حیات فقط تیری ایک نگاہ کی محتاج ہے اور صرف اگر اس نگاہ کا حصول ہو جائے تو…میری بے تابیوں کو سکون میسر آ جائے…
زیست میں درج یہاں سے وہاں تک پھیلتی تنہائیوں کا تدارک ہوجائے، ہاں، اگر تُو چاہے تو…
تیری فقط ایک نظرِ کرم میری زندگی کو یہاں سے وہاں تک جھلملا سکتی ہے…بے رنگ لمحوں میں رنگ بھر سکتی ہے…
محبت کے سچے، پکے اور انمٹ رنگ…
کٹھن ہے زندگی کتنی
سفر دشوار کتنا ہے
کبھی پائوں نہیں چلتے
کبھی رستہ نہیں ملتا
ہمارا ساتھ دے پائے
کوئی ایسا نہیں ملتا
فقط ایسے گزاروں تو
یہ روز و شب نہیں کٹتے
یہ کٹتے تھے کبھی پہلے
مگر ہاں، اب نہیں کٹتے
مجھے پھر بھی میرے مالک
کوئی شکوہ نہیں تجھ سے
میں جاں پر کھیل سکتا ہوں
میں ہر دکھ جھیل سکتا ہوں





اگر تُو آج ہی کردے
محبت ہم سفر میری
…٭٭٭…
عمیر نے اپنے دائیں کاندھے پر ایک مضبوط ہاتھ کا لمس محسوس کیا تھا اور بے ساختہ ہی دور بین آنکھوں سے ہٹا لی۔
’’ارے جہاںزیب! تم کب آئے؟،، اس کی مسکراہٹ میں واضح کھسیاہٹ تھی اور جہاںزیب اندر تک اُتر کر دل کا چور پکڑ ڈالنے کا ماہر۔
’’عرصہ ہوا، تم ہر سال کیک کھاتے تو ہو۔،، جواباً اس کی گہری مسکراہٹ میں عمیر کے اندر تک کا احوال درج تھا۔’’اب تم کہو گے کہ موسم بہت اچھا ہے اور کراچی شہر کی رونقیں اس بالکونی سے بہتر تو کہیں اور نظر آ ہی نہیں سکتیں۔،،
جواب میں عمیر نے واضح قہقہہ لگایا تھا اور کسی حد تک اپنی شرمساری کو Release ہوتے محسوس کیا… جہاںزیب پلٹ کر بید کی کرسی پر بیٹھ گیا تو بے اختیار رہی اس نے تقلید کی تھی۔ یہ اور بات کہ تمنائیں دید کی تشنگی پر اندر ہی اندر شور مچاتی رہیں۔
جب سے تیرے خیال کا موسم ہوا ہے دوست
دنیا کی دھوپ چھائوں سے آگے نکل گئے!
مڑ مڑ کے اب بھی پیڑ صدائیں دیا کیے
اب کے بھی تیرے گائوں سے آگے نکل گئے
جہاںزیب سینٹر ٹیبل سے کتاب اُٹھا کر ورق گردانی کرتا ہوا شرارت سے پڑھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اور جواباً اس کے لبوں پر بھی گہری اور جاندار مسکراہٹ ابھر آئی۔
یہ محبت ہی کا تو اعجاز ہوا کرتا ہے کہ لب بات بے بات مسکراتے ہیں۔ سماعتیں ہر بات میں بس ایک ہی نام سننے کی خواہاں رہا کرتی ہیں۔ دھڑکنیں محبت کی تال پر رقص کرتی ہیں۔ آنکھیں دید کی آس لے کر کھلتی ہیں اور سیرابی کی صورت میں طمانیت سے بند ہوتی ہیں۔ بصورت دیگر ہجر رُت کا عذاب رَت جگے عطا کرتا ہے۔ تمنائیں گویا سولی پر لٹک جاتی ہیں۔
اس نے کبھی جہاںزیب کو محرم راز نہ بنایا تھا مگر اس کی ایکسٹرا آرڈنری صلاحیتوں کا تہہ دل سے معترف بھی تھا اور ایسے ہی لمحات میں مات کھا جاتا۔ کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ جاتا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ عیاں ہو جاتا… یونہی… خود بخود… کسی آٹو میٹک سسٹم کے تحت گویا…مگر پھر بھی وہ کھل نہ پاتا، بات ذو معنی جملوں تک ہی محدود رہتی۔ وہ جواباً صرف مسکراتا ہی رہتا…اور جہاںزیب نے بھی کبھی اصرار نہ کیا۔ اب بھی اسے اس شرمساری کے حصار سے نکالنے کے لیے اندر کی جانب منہ کر کے ہانک لگائی۔
’’چمپانزی، چائے لے آئو۔،، وہ اصغر کو ہمیشہ یونہی پکارتا اور اصغر…جانے کہاں کہاں اور کس کس بات پر برا مناتا تھا۔ اس نے کبھی اظہار ہی نہیں کیا۔
’’جانے دو یار، اس کے امتحانات سر پر ہیں۔،، عمیر نے اس کا ٹریک چینج ہونے پر شکر بھرا سانس لے کر کہا۔
’’اوہو، تو کتابی کیڑا، آج کل کتابوں کی خاک چاٹ رہا ہے۔،، عمیر کے جواب پر اس نے سینٹر ٹیبل سے وصی شاہ کی ’’آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،، اُٹھا کر سپاٹ چہرے کے ساتھ یونہی اس کی ورق گردانی شروع کردی اور تشنہ سا ایک احساس اس کے اندر کلبلاتا رہ گیا۔
…٭٭٭…
فنا کا عمل کتنا جان لیوا ہوا کرتا ہے مگر کتنا سہل…ڈائنامائیٹ کا صرف ایک دھماکہ…شان سے ایستادہ سر بلند چوٹیوں کو زمین بوس کردیتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، شہر کے شہر اُجاڑ دیتا ہے، آندھی کا ایک ہی ریلہ کسی معصوم پرندے کے تنکا تنکا کر کے بنائے گئے ٹھکانے کو اُجاڑ دیتا ہے…مگر بقائ… آہ! بقاء کے لیے زندگی گزر جاتی ہے۔
ایک نسل کی پرورش ابنِ آدم کی کمر کو جھکا جاتی ہے۔ بالوں میں سفیدی بھر جاتی ہے۔
گھر کو بنانے اور آباد رکھنے میں کتنی کٹھنائیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔ تلخ و ترش رویے لہو کے گھونٹ کی مانند پینے پڑتے ہیں۔ محنت اور کڑی مشقت گویا تقدیر بن جاتی ہے اور صرف ایک لمحہ اگر کشتیء حیات کے ناخدا کے





ماتھے پر بل ڈال دے تو طوفانوں کی آمد کاسائرن بجنے لگتا ہے۔ ساری محنت، خدمت گزاریاں، درگزر کے اوصاف، صبرکی قوت ان طوفانوں کی نذر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ کشتی میں سوراخ ہی سوراخ محسوس ہونے لگتے ہیں… اور ربیعہ اسی لمحے سے ڈرتی تھی۔ کشتیء حیات کے ناخدا کے ماتھے پر اس کی تقدیر درج تھی جس کا موڈ پل پل بگڑتا۔ معمولی سے معمولی بات پر بھی…غصہ نہ ہونے والی بات پر بھی وہ غصہ کرتا…ادنیٰ سی کوتاہی پر بھی بھڑک اُٹھتا۔ تہذیب سے ناآشنا، شائستگی سے بے بہرہ جہاں محبت اور توصیف کا تقاضہ ہو، وہاں رویے کا کڑا پن مزاحم ہوتا…جہاں سراہنے کا مقام ہو وہاں خاموشی…اور بات جب محبت کی ادائیگی پر آکر ٹھہر جائے تو گہری جامد چپ…ایسی چپ جس میں کئی اسرار ہوتے… ایک واضح دھمکی…جو اسے پھر حکم زباں بندی پرمجبور کرجاتی۔ ایسی سرد مہری کہ اس کا وجود ٹھٹھرنے لگتا…اور وہی ملائم گرم سمجھوتے کی چادر اسے حرارت بخشتی وجود کو مسمرائز کر جاتی۔ وہ پلکیں تک جھپکانا بھول جاتی۔
مگر روحِ…روحِ کا ملال بڑھ جاتا، نظریں شکوہ کناں ہو اُٹھتیں…محبت کی عدم دستیابی پر تمنائیں کُرلاتی بَین کرتی پھرتیں … دل تڑپ اُٹھتا مگر وہ… تقدیر سارے جملہ حقوق جس کے نام کرچکی تھی، کروٹ بدل کر پڑ جاتا۔ زیادہ دیر نہ گزرتی کہ اس کے خراٹوں سے کمرہ گونجنے لگتا۔
ربیعہ کے سینے پر دھری صبر کی سِل اسے برف کر جاتی…اور رات سیاہ ناگن کی مانند اے ڈسنے لگتی…
ایسی کئی راتیں اس کی بارہ سالہ ازدواجی زندگی کی امین تھیں جن میں اس کے اندر کا دکھ قطرہ قطرہ پگھل کر آنکھوں سے آنسوئوں کی صورت رواں رہا۔ تمنائوں کی پامالی پر روح سسکتی رہی، آروزئیں بَین کرتی رہیں اور صائم گہری نیند سوتا رہا۔
…٭٭٭…
’’بڑے ابا آگئے۔،،
ایک سرسراتی ہوئی سی آواز اُبھری تھی جیسے کوئی تنبیہہ یا خطرے کا الارم یا جیسے کسی پُر خطر راستے پر رکھا ہوا کوئی بورڈ جس پر درج ہو ’’آگے خطرہ ہے،،
اکثر دروازے کے شدت کے ساتھ بجائے جانے پر سسر صاحب کی آمد کا اعلان ہوتا… مغرب کے بعد کا وقت تھا بچے کچھ ہی دیر پہلے کوچنگ سے لوٹے ہوں گے اور جانے کس نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہو گا۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اُترتی چلی گئی۔ لائونج میں پہنچتے ہی پہلی نگاہ سامنے دیوار پر اُٹھی جس پر آویزاں گھڑی رات کے آٹھ بجا رہی تھی۔ دائیں جانب زرینہ لمبی سی تسبیح تھامے مصلے پر مغرب کے بعد کا وظیفہ مکمل کررہی تھی۔ دائیں جانب اس کا اپنا کمرہ تھا جس میں ٹی وی کی آواز پست تر کردی گئی تھی۔ گھر کے سارے بچے اس وقت اسٹار پلس لگائے جانے کون سا ڈرامہ دیکھتے تھے۔ ان میں شازیہ بھی شامل ہوتی۔ اس کی محویت میں اگر اس کی اپنی بچی بھی خلل ڈالتی تو اسے ایک کرارا سا دو ہتھڑ نصیب ہوتا۔ اس کے سُر اونچے ہوتے تو پہلے سے تیار شدہ فیڈر اس کے منہ میں ٹھونس دیا جاتا۔ بڑے ابا کی نظروںسے بچنے کو وہی ایک گوشہ تھا جس میں بڑی پلاننگ کے بعد ٹی وی رکھ کر کیبل کی سہولت حاصل کی گئی تھی۔ سامنے کی جانب رستہ تھا۔ رستہ ختم ہوتا تو دائیں جانب کچن اور صحن کا رستہ عبور کر کے دو کمرے…بڑے ابا یقیناً اپنے کمرے میں عشاء سے قبل وضو کر کے مصلیٰ سنبھال چکے ہوں گے۔ دوسرے کمرے میں کلثوم سر پر پٹی باندھے ہائے وائے میں مصروف ہو گی۔ شوہر کی آمد کے دنوں میں اور اس کی واپسی کے بعد اس کی تمام تر نام نہاد بیماریاں شدت اختیار کر جاتیں۔ عجیب ناشکری عورت تھی۔ محبتوں کو برتنے کے ہنر سے واقف بھی ہوتی تو اس کا کمپلیکس اس کی راہ میں مزاحم رہتا…یہ اس کا اپنا اندازہ تھا مگر بے جوڑ رشتے جیسے اس گھر کی روایت تھے اور کم عمری کی شادی تمام نفوس کا گویا نصیب…کلثوم سرمد سے دس سال بڑی تھی۔ شادی کے وقت سرمد کی عمر صرف سترہ سال تھی جب اس کو شادی اور اس سے منسلک تقاضے اور ذمے داریاں نبھانے کی سمجھ آئی تو کلثوم کی تمنائیں سسک سسک کر دم توڑ چکی تھیں۔
ہوتا ہے ناں ایک مقام جہاں آرزوئیں بے حسی کی چادر اوڑھ کر پڑ جاتی ہیں۔ کلثوم اسی مقام پر تھی اور وہ خود اس مقام تک پہنچنے سے ڈرتی تھی۔
بڑے ابا کو عشاء کی ادائیگی کے بعد فی الفور کھانا درکار ہوتا … دیگر بھی تقریباً فارغ ہی ہوتے اسی لیے وہ اس وقت سالن پکا کر مغرب کی ادائیگی کے لیے چھت پر گئی تھی۔
وہ سرعت سے کچن میں گھس گئی۔ کتنا مکمل اور جامع منظر تھا … اپنی فطری چابکدستی سے جھٹاجھٹ روٹیاں اُتارتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی…وہ منظر جو اس کے بغیر بھی کبھی مکمل اور بھرپور رہا کرتا ہو گا اور خود اس کو یا اس کے وجود کو اس منظر کے کس خانے میں فٹ کیا جاسکتا ہے۔
آزردگی سوا تر ہو گئی۔
اور اب بھی اس کے نہ ہونے سے کون سا فرق پڑ جانا تھا۔ سارے منظر یونہی رہنے تھے۔ سارے کام کاج بھی چلتے ہی رہتے…یا اگر کوئی کام اٹکتا تو کسی نہ کسی کو تو کھڑے ہو ہی جانا تھا۔ شاید کلثوم اپنی نام نہاد ناٹھی نگوڑی بیماریوں کو الوداع کہہ کر کم از کم اپنے بچوں کی پکار پر تو اُٹھے گی ہی جن کے ڈھیروں کام ربیعہ نے ازخود ہی اپنے ذمے لے رکھے تھے…شاید سسرال کی اس سلطنت پر اپنے قدم مضبوطی سے جمائے رکھنے کی خاطر … زرینہ کے وظائف مختصر ہو جاتے، امی بھی گھر جلد لوٹنے لگتیں…سب کچھ کتنا سہل سہل سا ہو جاتا نا…کتنا ہلکا پھلکا سا ہوکر رہ جاتا۔ وہ ماحول جو کبھی کبھی اس کی موجودگی کے سبب گمبھیرتا کا شکارہو جایا کرتا تھا…کبھی کبھی زاہدہ یا امی اس کے اچانک آجانے پر کیسی خاموشی سی ہو کر رہ جاتی تھیں اور وہ کچھ نہ سنتے ہوئے بھی جان جاتی کہ موضوع گفتگو کیا رہا ہو گا۔ یقیناً صائم کی دوسری شادی…امی کی روتی سسکتی خواہش جس کے لبوں پر آنے پر ہی صائم دہاڑنے لگتا…جلال میں آجاتا اور اپنی فطری بدزبانی پر قابو نہ رکھ پاتا۔ امی خاموش ہو کر رہ جاتیں۔ بعد ازاں وہ اس سے کہتا۔
’’میں یہ بھی کر گزروں مگر…ابھی میری منزل دور ہے۔،،
Back to top Go down
View user profile
Ali_shan
1 Star
1 Star
avatar

Posts : 84
Points : 94
Reputation : 4
Join date : 19.04.2013
Age : 24
Location : Lahore

PostSubject: Re: محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم   Mon 22 Apr 2013 - 7:03


گویا اس کی دانست میں ابھی کچھ کسر باقی تھی۔ اپنے نشتر جیسے رویوں سے اس کی پور پور چھید ڈالنے کے باوجود اس کی سرد مہریاں جو اس کی روح تک میں شگاف ڈال چکی تھیں اور جان لیوا جملے، جو اس کی عزت نفس اور خود داری کو روندتے ہوئے گزر جاتے… جیسے کبھی کبھی وہ کہتا۔
’’تم میرے سر پر لٹکی تلوار کی طرح ہو جو جان لیتی نہیں مگر جان سلب کر کے ضرور رکھتی ہے۔،،
کتنی تحقیر ہوتی اس کے لفظوں میں…جو اس کے اندر سسکتی عزتِ نفس کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی۔ بیزاری کا عروج… نفرت کی انتہا … وہ مر کر بھی زندہ رہتی…دوبارہ تل تل مرنے کے لیے … اور کتنا کچھ سنور جائے گا ناں، اس کے نہ ہونے سے…فقط ایک فیصلے ہی کی تو تاخیر ہے…
وہ فیصلہ جسے کر لینے کے بعد وہ کہتی تھی کہ اپنے میکے نہیں جائے گی۔ خودکشی کا کوئی ایک راستہ تو نہیں ہوتا، میکے سے منسلک وہ بیڑیاں جو اسے پابندِ زباں بندی بنا چکی تھیں، اس کی راہ روک لیتیں…جیسے اس سے منسلک کئی رشتوں میں بندھی بچیاں دامن گیر ہی تو ہو جائیں گی۔
’’پھپھو، ہمارا کیا بنے گا…اب تو ابا بھی نہیں رہے…،،
’’خالہ جانی، آپ جانتی ہیں ناں ماما کتنے دکھ اٹھاتی ہیں، دادی کتنا ستاتی ہیں ماما کو…،،
ابا کا بوڑھا وجود…اماں کی بیمار حالت اور سب سے آخر میں اس کی ماں جائی ظل سحر کے بالوں میں چمکتے چاندی کے تار … اماں تو پہلے ہی گھائل ہیں، جانے کن کن فکرات کو سینے سے لگا کر دل کا جان لیوا مرض پال بیٹھی ہیں۔ اس کی تباہی پر ڈھے جائیں گی…انہیں تو پہلے ہی ایک فکر کھائے جاتی ہے۔ وہ اکثر آہ بھر کر کہتیں۔ ’’ہائے میری ظل سحر، میری زندگی ہی میں اس کی شادی ہو جائے، اللہ جلد ہی کوئی اچھا سا رشتہ بھیج دے۔،،
وہ نظریں چرا جاتی۔ اپنی آزردگی کو لعن طعن کرتی…وہ وقت یاد کرتی جب اماں خود اس کے لیے اتنی ہی پریشان رہتیں۔ ان سب کی زندگیوں کو مزید انتشار، اُلجھنوں اور مسائل سے بچانے کے لیے یہ سودا مہنگا تو نہیں…
جب زندگی گزارنی ہی ٹھہری تو کیا حرج ہے، اپنے بخت کی ہولناک سیاہیوں کو صرف مقدر کا لکھا سمجھ کر پی جانے، عزت نفس، خود داری کو کچلتے چند کڑوے کسیلے رویے سہہ جانے کا خسارہ اُٹھا لینے میں …
کیاہوا جو اپنی زندگی پل پل اذیت دیتا، ناسور بن کر گزرے…اپنے درد کو خود ہی پی جانے کی اذیت…اس اذیت سے بڑھ کر نہیں جو اس سے منسلک پیارے رشتوں کی اذیتوں میں اضافہ کر جائے۔ ان کی اُلجھنوں کو بڑھا دے…
کیا ہوا جو ایک درد مسلسل جان سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ اماں ابا تو کیا، کسی نے بھی یقیناً اس کا برا نہ چاہا ہو گا۔ اب اس کے نصیب ہی کھوٹے تھے تو یہ ان کا تو قصور نہیں ناں…ان تلخ و ترش رویوں کو پل پل پی جانے میں جاں کازیاں ہوتا ہے تو کیا ہوا۔ اپنے ان پیارے مخلص رشتوں کو سکون بخشنے کے عوض یہ سودا اتنا مہنگانہیں۔
وہ جب بھی نئے سرے سے ہمتیں اور حوصلے مجتمع کرتی، اندر سے ٹوٹ پھوٹ جاتی، تمنائیں سسکتی رہتیں مگر اپنے قدم مضبوط محسوس ہونے لگتے۔
…٭٭٭…
’’خالقِ کائنات کی حسین ترین تخلیق ہیں یہ لڑکیاں۔،، جہاںزیب گھنٹہ بھر بالکونی میں کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کے نظارے کر کے لوٹا اور صوفے پر ڈھیرہو گیا۔ ’’کیوں میاں علامہ تمہارا کیا خیال ہے؟،،
اس نے اخبار کے مطالعے میں گم اصغر پر نگاہ ڈالی۔
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا!
عمیر ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا اور اب شیشے کے سامنے کھڑا شد و مد سے بال بناتے ہوئے جہاںزیب کی بات پر لقمہ دینے کی فرصت نکال ہی لی۔
’’میری رائے فی الوقت محفوظ ہے۔،، اس نے عمیر کے شعر کو سمجھ کر بھی برا مانے بغیر جواب دیا تھا اور ایک جمائی لیتے ہوئے کچن کا رخ کیا۔
’’محفوظ…،، جہاںزیب سپرنگ کی مانند اچھلا تھا۔ ’’وہ بڈھا کھوسٹ جو چوڑیوں کی فروخت کے بہانے لڑکیوں کی نرم و نازک کلائیوں سے کھیلتا ہے۔ تم نے اس سے تعارف کب اور کیوں حاصل کرلیا؟،،
’’تمہارا ہم مزاج تھا ناں اس لیے۔،، عمیر نے پھر لقمہ دیا۔ ’’معلوم ہے ناں کہ تمہیں چُھو کر گزرنے والی ہو اسے بھی اصغر کو پیار ہے، بالکل ایسے جیسے لیلیٰ کے کتے سے بھی مجنوں کو عشق تھا اور وہ جو فلموں میں میاں مجنوں کا گریبان تار تار دکھائی دیتا ہے تو وہ اسی عشق کا خمیازہ ہوتا ہے۔،، عمیر نے بال بناکر پرفیوم استعمال کیا تھا اور استری اسٹینڈ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
’’بائی دی وے، آج تمہیں سونے سے فرصت کیسے مل گئی؟،، یہ سوال جہاںزیب کے لیے تھا۔





’’جاگ کر یہ جو کچھ کیا کرتے ہیں، اس سے لاکھ درجہا بہتر ان کا سوتے رہنا ہے۔،،اصغر کچن سے کافی کے مگوں کے ہمراہ فرنچ فرائیز کی پلیٹ لیے نمودار ہوا تھا اور پھر جہاںزیب کے پاس ٹھہر کر پلیٹ اس کی جانب بڑھائی۔ ’’ٹیسٹ کر کے بتائو، کیسے بنے ہیں۔ آج کا یہ تجربہ تمہارے نام۔،،
جہاںزیب نے ایک ٹکڑا اٹھاکر منہ میں رکھا۔ اصغر بغور اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
’’انتہائی بدمزہ ہیں۔،، اس نے جلدی جلدی منہ چلا کر ٹکڑا نگلا اور اصغر کی امیدوں پر پانی پھیرا۔
’’مجھے تم سے یہی امید تھی۔ عمیر، تم ٹیسٹ کر کے بتائو۔،،
اب اس کی پلیٹ کا رخ عمیر کی جانب تھا کہ جہاںزیب کی رائے پر کچھ ایسا خاص بھروسہ بھی نہ تھا اسے لیکن عمیر نے پلیٹ کی جانب ہاتھ بھی نہ بڑھایا۔
’’ان کی شکل و ہیئت دیکھ کر ہی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ چپس کم از کم میرے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔،،
’’مگر کیوں؟،، اصغر بلبلایا تھا کہ ابھی تو پسینہ بھی نہ خشک ہوا تھا۔ ناقدری سی ناقدری تھی۔
’’مائی ڈیئر اصغر، آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے فرنچ فرائیز کے لیے آلوئوں کا چھلکا اُتار لینا لازمی ہوا کرتا ہے۔،،
’’دیٹس اِٹ، اتنی دیر سے میں بھی ان فرنچ فرائیز کے بدلے ہوئے ذائقے پر غور کررہا تھا۔،، جہاںزیب ایک بار پھر اچھلا تھا۔
عمیر نے اس کے یوں اچھلنے پر ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
’’تمہارے صوفے میں کھٹمل تو نہیں ہیں، بات بے بات اچھل رہے ہو، عمیر اس سے لاکھ درجہا بہتر ہے کہ کونے میں مصلیٰ سنبھال کر بیٹھ جائو اور میری کامیابی کے لیے دعا کرو۔،،
’’گویا ایک اور انٹرویو۔،، جہاںزیب جیسے کراہا تھا۔ ’’انٹرویو میں کامیابی کی بھی کچھ امید ہے۔،،
’’بالکل ہے،قابلیت کی جگہ ڈگریاں، ڈومیسائل کی شکل میں مسائل کا انبار اور تجربہ صرف انٹرویو دینے کا، یوں سمجھ لو کہ ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
عمیر بڑی دلجمعی سے پانی چھڑک چھڑک کر استری میں جتا ہوا تھا۔
’’کب آئے گا وہ مبارک دن، جب ہر شے میں شیئر ہو گا ون تھرڈ، ون تھرڈ اینڈ ون تھرڈ۔،، جہاںزیب نے واضح دہائی دی تھی کہ عمیر کے حصے کی ادائیگیاں کر کر کے اس کی جیب وقت سے پہلے دہائیاں دینے لگتی تھی۔
’’تم ڈرو اس وقت سے جب ایک آواز آئے گی ’’ہالٹ،، اور کہیں سے ایک بندوق کی نال تمہاری کنپٹی پر آکر ٹھہر جائے گی اور تمہارے ڈیڈی…،،
’’عمیر یار،تمہیں خدا کا واسطہ…!،، جہاںزیب کے لہجے میں بس پیروں میں گر پڑنے کی کسر رہ گئی تھی۔
’’تمہیں وہ والا محاورہ یاد ہے ناں…،،
"Think the devil, and devil is there" عمیر مسکرایا۔
’’اوئے، میرے باپ کو شیطان کہتا ہے۔،، جہاںزیب پھر اچھلا۔
’’نہیں، میں تو تجھے شیطان کی اولاد کہہ رہا ہوں۔،،
’’میں سب سمجھتا ہوں، تُو جتنا کھڑا نہیں ہے، اتنا گڑا ہے۔،، اس نے سمجھ کر بھی نہ سمجھنے کا سا تاثر دیا تھا۔
’’یار، گھڑوں کا ذکر نہ کر، اپنے چمپانزی کو گائوں کی کوئی مٹیار یاد آجائے گی۔،،
’’کیا چیز ہے یہ اپنا گھونچو، ہر مرض کی دوا، ٹو ان ون، بلکہ آل ان ون۔،،
’’ہاں،لاکھوں میں ایک اور سب سے نیک۔،، عمیر کو یونہی قافیے ملانے کا شوق تھا۔ دونوں نے مشترکہ قہقہہ لگایا۔
…٭٭٭…





میڈم یزدانی!
امید ہے کہ آپ بہ خیریت ہوں گی۔
اس بار خط لکھنے میں کچھ تاخیر ہو گئی مگر آپ بخوبی جانتی ہیں کہ یہ وقوفہ میرے اپنے اندر کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔ میرے اندر پھیلتی تاریکی اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگتی ہے۔ احساس کا زہر روزن مانگنے لگتا ہے۔ تنگیٔ وقت دامن گیر نہ ہو تو شاید یہ سلسلہ کبھی نہ رکے کہ آپ سے باتیں کرنا کتھاسس کا ایک ذریعہ بن گیا ہے اور یہ کتھاسس ہی اب زندہ رہنے کا جواز ہے۔ میرے اندر پلتے پنپتے احساس کے زہر کو نگل لینے والا ایک جواز…روز و شب کی تفصیل سے آگاہ کرنے بیٹھ جائوں تو خط ایک بار پھر طویل ہو جائے گا۔
کبھی کبھی کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ مصائب سے منسلک اذیتوں کو واضح کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں اور آپ جیسے مخلص دوست ایک غیر متعلقہ اُلجھن میں مبتلا رہیں، میرا کتھاسس آپ کی ٹینشن میں اضافہ کر جائے، مجھے منظور نہیں…
میڈم یزدانی، آپ کہتی ہیں کہ آپ کو رباب فاطمہ کہوں، آپ میری دوست ہیں۔ آپ بھی مجھ سے وہ کچھ شیئر کرنا چاہتی ہیں جو اب تک کسی سے نہ کہہ سکیں۔
میڈم یزدانی، شاید حیات نے مصائب کا زہر چکھا بھی نہ تھا۔ ان دنوں کو یاد کروں تو اک سراپا تخیل میں ضرور چھب دکھاتا ہے۔ محبت سے پُر مسکان سے سجا ایک چہرہ،ماں کے روپ کا سا مہربان عکس لیے جھلملاتا ہے۔ وہ چہرہ آپ کا چہرہ ہے۔ بالکل ماں کے اسی جھلملاتے ممتا کے نور سے منور چہرے کی مانند… وہ روپ، وہ عکس مزاحم ہے کہ دوستی میں حد بندی کو نظر انداز نہ کیا جائے، اپنا اندر آپ کے سامنے کھول کر رکھ دوں تو شاید پُرسکون ہو جائوں مگر آپ کی بے سکونی بھی تو مجھے منظور نہیں۔ اپنے آپ سے وابستہ ایک ایک دکھ کو اگر قطرہ قطرہ بھی آپ میں منتقل کردوں تو جل تھل ہو جائے گا مگر آپ سیراب نہ ہو پائیں گی شاید بپھر اٹھیں گی۔ سمندروں کی سرکش موجوں کی مانند اپنا اختیار کھو دیں گی۔ مجھے آپ کا سکوت بھاتا ہے اور یہ سکوت مجھ سے متقاضی رہا کرتا ہے کہ کتھارسس خودغرضی نہ بن جائے۔ میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔ دوستی کے اس رشتے کی پائیداری کی خواہاں ہوں۔ لفظ بوجھل ہو جائیں تو سماعتیں اکتانے لگتی ہیں۔ اپنے وجود میں آکٹوپس کی مانند پیوست ان دکھوں کو نوچ نوچ کر پھینکنے لگوں تو شاید لہولہان ہو جائوں۔ زبان زدعام ہو جائوں اور میں فسانہ نہیں بننا چاہتی۔ صدیوں سے مہر بہ لب، کسی دیمک زدہ شیلف میں سجی گرد سے اَٹی کتاب کی مانند، سربستہ راز کی طرح کسی مشتاق لمس کی منتظر ہوں۔ آپ اس کتاب کی گرد اپنی نرم و نازک پوروں میں سمیٹ لیں تو اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا رہے گی۔
آپ کی دائمی خوشیوں کی دعاگو
حرماں نصیب
ربیعہ

…٭٭٭…
موسم غضب ڈھا رہا تھا۔ عمیر اخبار لے کر ٹیرس میں چلا گیا جہاں جہاںزیب پہلے سے موجود تھا۔ راکنگ چیئر پر جھولتے ہوئے آنکھیں موندے بہ ظاہر کسی خیال میں مستغرق چہرے پر سنجیدگی کی گہری چھاپ…اور عمیر سے بڑھ کر کون واقف تھاکہ اس گہری چھاپ کے عقب میں بھی کتنی شوخیاں پوشیدہ ہیں۔
فضا اب بھی اَبر آلود تھی۔ گزشتہ روز کی برسات کے باعث اطراف کی بلڈنگیں دھلی دھلائی اور نکھری نکھری سی نظر آرہی تھیں۔ آٹھویں منزل سے نیچے سڑک پر گزرتی گاڑیاں اور چلتے پھرتے لوگوں کھلونوں کی مانند نظر آرہے تھے۔
ٹیرس سے منسلک کمرے کے دروازے پر اصغر نمودار ہوا تو اس کا اشتیاق عروج پر جا پہنچا۔
’’کیا بنا…کیا رہا…؟،، اس کی بے چین آواز پر جہاںزیب نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔
اگرچہ دریافت کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اصغر کے چہرے پر درج تاثرات چیخ چیخ کر ناکامی کا اعلان کرہے تھے۔ تھکن کا ایک واضح احساس جیسے منجمد تھا پھر بھی اس نے کہا۔ ’’صفر…،،
دونوں کے منہ لٹک گئے۔
’’جمعے کا وقت قریب ہے اور ناکامی کا یہ عالم…پارٹنر تم کچھ اور ٹونے ٹوٹکے آزمائو شاید بہتر نتیجہ برآمدہو۔،، یہ مشورہ جہاںزیب کی جانب سے مفت عنایت کیا گیا تھا۔’’مجھے یاد ہے میری امی گوشت نہ گلنے پر خربوزے کے چھلکے استعمال کیا کرتی تھیں۔ تم بھی ٹرائی کر کے دیکھو۔،،
جہاںزیب کے اُکسانے پر اصغر تھکے تھکے قدموں سے لوٹ گیا تھا۔ اس کے ٹوکنے کے بعد عمیر نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا تھا۔

Back to top Go down
View user profile
Ali_shan
1 Star
1 Star
avatar

Posts : 84
Points : 94
Reputation : 4
Join date : 19.04.2013
Age : 24
Location : Lahore

PostSubject: Re: محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم   Mon 22 Apr 2013 - 7:06

’’گوشت کی قسم کیا ہوتی تھی؟،،
’’کیا مطلب؟،،
’’چوری کے مرغ کے اکڑ جانے اور نہ گلنے پر بھی یہی نسخہ کارگر رہے گا؟،،
’’چوری کا مرغ…،، جہاںزیب گویا اچھلا تھا۔ ’’خبردار جو اسے چوری کا مرغ کہا تو…یہ اللہ کی زمین سے پائی گئی نعمت من و سلویٰ سے کم نہیں۔ ورنہ غور کرو اس سے پہلے ان فلیٹس کے احاطے میں کسی تنومند مرغ کا وجود کبھی نظر آیا تمہیں، وسیلہ، میرے یار، وسیلہ، ہم سے بڑھ کر اس رُوئے زمین پر نعمتِ خداوندی کا مستحق اور کون ہو گا بھلا؟ ‘‘
’’اچھا پھر تم نے اپنے گھونچو سے کیوں یہ بات چھپائی کہ یہ مرغ تم کمپائونڈ…‘‘
’’شی…ای…آہستہ میرے یار، دیواروں کے بھی کان ہوا کرتے ہیں۔ اس گھامڑ کے منہ سے ایمانداری پر ایک مفصل اور ثقیل لیکچر سننے سے زیادہ مزیدار اس عظیم اور تنو مند مرغ کا لنچ ہو گا اور تم دیکھنا بالآخر سب سے پاور فل چٹخارہ اور طویل ڈکار اصغر میاں ہی کی ہو گی۔‘‘
’’جس بے دردی سے تم نے مرغ کو ذبح کیا تھا، غالباً اسی لیے سراپا احتجاج ہیں، انتقاماً اکڑ گئے ہیں موصوف، کس بے رحمی سے غریب کے گلے پر چھری پھیری تھی تم نے، آہ و فغاں کا بھی نہ موقع دیا۔ ’’عمیر اُٹھ کر کمرے میں آیا اور جمعے کے لیے دلجمعی سے کُرتا شلوار استری کرنے لگا۔
اصغر پسینے میں شرابور ایک بار پھر کچن سے برآمد ہوا اور تھکے تھکے انداز میں وہیں ایزی لائونج میں ایزی چیئر پر ڈھیر ہو گیا۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا یعنی کہ ہنوز صفر… پورے فلیٹ میں مرغ بھننے کی خوشبو چکرا رہی تھی مگر دلی دور تھا۔
’’میرا خیال ہے اس مرغ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، سابقہ سسٹم کے تحت اب لنچ کا انتظام ہونا چاہیے۔‘‘ یہ تجویز عمیر کی تھی۔
’’اوئے، میں نے تو سنا تھا مفت کی شراب مُلا کو حلال ہوتی ہے۔‘‘ جہاںزیب نے ٹیرس ہی سے دہائی دی تھی۔
’’آج جمعہ ہے، ہوٹل کے مینو میں مرغ چھولے اور ماش کی دال ہو گی۔ نکالو تینوں ایک ایک تہائی رقم…تین پلیٹ سالن، ایک پلیٹ دال اور چھ روٹیاں۔‘‘
’’میرا چیک کیش نہیں ہوا ابھی؟‘‘ جہاںزیب نے ہاتھ اُٹھا کر لہرایا۔
’’اور میں تو جنم جنم کا کنگال ہوں، یار اصغر، نوکری مل جانے دو، پائی پائی کا حساب ہو گا، اس وقت تو کھاتے میں لکھ لو۔‘‘ عمیر نے اپنا ازلی دکھڑا روکر اسے تسلی دی۔ دونوں ہی جانتے تھے کہ اصغر نے کل ہی گائوں سے آنے والا منی آرڈر وصول کیا ہے۔
’’اب لنچ لے کر کون آئے گا؟‘‘ اس نے والٹ سے رقم نکال کر حسرت سے سرخ نوٹ کو تکا۔
’’استری ہو گئی، میں تو چلا نہانے۔‘‘ عمیر نے جھٹ استری شدہ کپڑے کندھے پر ڈالے۔
’’اس کا مطلب ہے کہ باتھ روم اگلے دو گھنٹوں کے لیے بک ہے اور میں اطمینان سے اپنی نیند پوری کرسکتا ہوں۔‘‘ جہاںزیب نے ایک لمبی جماہی لی اور بستر کا رخ کیا۔
اصغر نے بے بسی سے بیرونی دروازے کی جانب قدم بڑھائے۔ اس کے جاتے ہی عمیر مسکرایا تھا۔
’’دوستی نبھاہنا تو کوئی اس گھامڑ سے سیکھے۔‘‘
اسے کہتے ہیں ’’چپڑی ہوئی اور وہ بھی بے شمار۔‘‘ جہاںزیب کا قہقہہ خاصا بلند تھا۔ محاوروں اور اشعار کا قلع قمع کرنے میں تو وہ ماہر تھا۔
عمیر غڑاپ سے باتھ روم میں جا گھسا اور جہاںزیب سوچوں کے تلاطم میں غوطہ زن ہوا…یک لخت ہی اپنے گھر کی پابند اور گھٹی ہوئی سی فضا تصور میں در آئی۔ ڈسپلن…ڈسپلن اور ڈسپلن…ہر کام کے لیے پابندیٔ وقت…گھر ، گھر نہیں،ملٹری کا کوئی بیرک لگتا تھا۔ اس کے پاپا کیپٹن یاور حیات نے اسے ایک بہادر جانباز کے روپ میں دیکھا تھا اور جب ان کے خوابوں کے شرمندہ تعبیر ہونے کا وقت آیا، اس نے بوریا بستر لپیٹا اور خاموشی سے اَن جانی منزل کی جانب رواں ریل میں چڑھ گیا۔ اسے یہ پابند زندگی کسی طور منظور نہ تھی۔ سو اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ دھر لیے جانے پر پاپا کے کیا تاثرات رہیں گے۔ شاید اس کی ہڈیوں کے بھی نشانات نہ مل سکیں۔
’’ہالٹ!‘‘ ایک حواس گم کردینے والی آواز اکثر اس کی سماعتوں میں گونجتی، وہ پل بھر کو چونک اُٹھتا، پھر اِدھر اُدھر دیکھ کر کلمہ شکر پڑھتا۔
…٭٭٭…
ساس صاحبہ آج جلد گھر لوٹ آئی تھیں اور بچوں کی تو گویا عید ہی ہو گئی، وہ ایک سے دامن چھڑاتیں تو دوسرا پلو پکڑتا۔ بھانت بھانت کی بولیاں تھیں۔ فرمائشیں ہی فرمائشیں۔
’’بڑی امی، امتحانوں کی فیس بھرنی ہے، سات سو روپے چاہئیں۔‘‘ یہ کلثوم کا سوال تھا۔





’’ہا ہائے، سات سو روپے…ابھی دو مہینے پہلے تو پانچ سو دیے تھے۔‘‘
’’بڑی امی، وہ رجسٹریشن فیس تھی، اب امتحانی فیس جمع کروانی ہے۔‘‘
’’بڑی امی گرمیاں آگئیں،لان کے سوٹ لا کر دیں۔‘‘ یہ فرحان ہی کی بہن نازیہ تھی۔
’’جائوں گی بیٹا…! جائوں گی مارکیٹ…تمہارے لیے نہیں ، سب کے لیے لان کے سوٹ لائوں گی۔ پہلی آنے دو۔‘‘
’’پچھلے مہینے بھی آپ نے وعدہ کیا تھا مگر پھپھو کو چار جوڑے لا دیئے۔‘‘ منہ پھٹ ہونا ان سب بچوں کا مشترکہ وصف تھا۔ امی کے توتلوئوں سے لگی سر پر بجھی۔
’’تو پھپھو کیا تمہیں ڈستی ہے، تمہارے باپ کی ماں جائی ہے۔ کسی کو اس غریب کے دکھ بھی نظر آتے ہیں؟ میاں اس کا نکما…سسرال اس کی بری…تل تل کو ترستی ہے میری بچی۔‘‘
’’تو آپ نے شاہدہ پھپھو کو بھی تو لا کر دیئے تھے۔‘‘ نازیہ ذرا نہ متاثر ہوئی۔
’’ہاں، تو شاہدہ کو میں نہ لا کر دوں گی تو اور کون لا کر دے گا۔ کالج جاتی ہے میری بچی…سو لوگوں سے ملنا ملانا ہے۔ تم بھی اپنے ماں باپ کی جان کھائو۔‘‘
’’پھر میں نے ملتان فون کرنا ہے۔ آپ نہ کہنا کہ فون کا بل زیادہ آیا۔‘‘ وہ ٹھنکی اور اپنی دانست میں انہیں دھمکایا۔
’’دفع دور…جاکر پی سی او سے کرنا فون…میں اگر یونہی بل بھرتی رہی تو ساری تنخواہ کا تو ہو گیا کام…‘‘
’’تو ابو سے پیسے بھی تو منگوائے تھے آپ نے انہی بلوں کا نام لے کر…‘‘ وہ اب بسورنے لگی تھی۔
’’پرے مر، نامراد…خوب سمجھتی ہوں میں…یہ کس کی پڑھائی پٹیاں ہیں…گھر بھر میں جاسوس پھیلے ہوئے ہیں … کان لگا کر رکھتے ہیں دیواروں سے…ارے منگائے تھے تو اپنے بیٹے سے منگوائے تھے…پیدا کیا ہے، پالا پوسا ہے اس مردود کو، لے جائے اپنی اولاد…جونکیں بن کر چمٹ گئی ہیں۔ ساری کی ساری مجھ سے…کب تک ان سب کا جہنم بھرتی رہوں گی میں۔‘‘
ان کے بَین بلند ہوئے اور وہ گویا فریز سی ہو کر رہ گئی۔ مغرب کے بعد کا وقت تھا، صاحب بہادر کو ڈیوٹی جانا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر برتن رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ جم سے گئے۔ زرینہ کی طویل نماز اور طویل ہو گئی تھی۔ ربیعہ خوب جانتی تھی موضوع کوئی بھی ہو، ساس صاحبہ کے ہاتھ بہانہ آنا چاہیے۔ اپنے سے وابستہ دکھوں کی تشہیر کر کے ان پر بَین کرنے کا…
کوئی اس گھر کے افراد گننے بیٹھے تو گنتی بھول جائے۔ اس پر ہمہ وقت مہمانوں کی آمد…کوئی ہی دن جاتا ہو گا جو ان کا دستر خوان مہمان سے پُر نہ ہو…امی سب کے خرچوں سے عاجز آجاتیں۔ بچے ان کا پلو کھینچتے تو جھنجھلا جاتیں مگر پھر بھی ان کا ایک دکھ ہر دکھ پر بھاری تھا۔
’’ہائے میرے صائم کی اولاد…!‘‘ ربیعہ کو دیکھ کر وہ قصداً لمبا سانس کھینچتیں۔ ’’لگتا ہے اس کا منہ دیکھنے کا ارمان لے کر ہی میں اس دنیا سے چلی جائوں گی۔‘‘
وہ جہاں کی تہاں رہ جاتی۔ مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مجرم سا محسوس کرتی، نظریں چرانے لگتی۔ کبھی کبھی کوئی بھلا مانس انہیں سمجھانے بھی بیٹھ ہی جاتا۔
’’اللہ نے گھر بھر رکھا ہے آپ کا…ماشاء اللہ، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں، سب ہی تو ہیں۔‘‘
اس پوائنٹ پر آکر وہ صبر کی حدیں کراس کرنے لگتیں مگر مضبوط جواز نہ ڈھونڈ پاتیں۔
’’ہائے،میرا صائم بے نام رہ جائے گا۔‘‘
’’یوں تو نہ کہیں، بھائی بھتیجے بھی تو اپنا ہی خون ہوا کرتے ہیں۔‘‘ جواز معقول تھا۔ وہ لاجواب ہو کربھی لاجواب نہ دکھائی دیتیں، نہ ان کا غم ہی کم ہو کر دیتا۔
’’صائم کی اولاد دیکھنے کے لیے تو میں زندہ ہوں۔‘‘
شاید یہ اسے بے عزت کرنے کا سب سے پاور فل ہتھیار تھا جیسے اب وہ گناہ گار نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو گناہ گار سا محسوس کرنے لگی تھی۔ جامد سی ہو کر رہ گئی۔
صائم تن فن کرتا ہوا باتھ روم سے نکلا تھا۔ اوپری بدن پر تولیہ ڈالے، ایک ہاتھ سے بالوں کا پانی جھاڑتے ہوئے امی کو لٹھ مار سلام کر کے ڈائننگ چیئر کھسکا کر بیٹھ گیا اور ربیعہ میں تو جیسے بجلی ہی بھر گئی۔
روٹی ٹھنڈی ہوجائے تو وہ اسے ہاتھ لگانا بھی نہ پسند کرتا۔ سالن ۔دیکھنے میں اچھا نہ ہو تو اس کی نظرِ کرم کا بھی محتاج رہتا۔ کھانا وہ پورے اہتمام کے ساتھ ہی کھانا پسند کرتا تھا۔ اچار، چٹنیاں، سلاد۔ وہ اس کے کھانے کے دوران ہلکان ہی رہا کرتی۔ جیسے اب جھٹا جھٹ روٹیاں اُتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھیں۔ ٹیبل سجائی اور ہمیشہ کی طرح اس کی نکتہ چینیوں کا آغاز ہو گیا۔
’’سالن میں نمک کم کیوں ہے؟‘‘
اب اگر ربیعہ اسے بتانے بیٹھ جاتی کہ یہ ہدایت امی کی جانب سے ہے جو گھر کے بیشتر لوگوں کے ناک بھوں چڑھانے پر کی گئی تھی تو وہ جانتی تھی کہ جواز اس کے نزدیک بے قیمت ہی رہا کرتے ہیں اور ربیعہ کی کوئی بات مکمل سننا تو اس کے لیے گویا کسرِ شان ہی تھا۔ اس کے مزاج کا پارہ آسمان تک جا پہنچنے میں کون سی دیر لگتی تھی، سو خاموشی ہی میں عافیت تھی۔
’’لائونج میں اتنا جمگھٹا کیوں تھا۔ ان بچوں کو اور کوئی کام نہیں کیا؟‘‘
اس نے نیا نکتہ اٹھایا اگرچہ اس کی آمد کے ساتھ ہی بھیڑ چھٹ چکی تھی۔ اس کے ماتھے کے بلوں کو گنتے رہنا فقط ربیعہ کا مقدر تھا مگر دیگر بھی سراسیمہ تو ہو ہی جاتے تھے امی سمیت … اور کبھی کبھی ابو بھی۔ جب کبھی وہ پھٹ پڑتا تو سیر پر سوا سیر والا معاملہ رہتا۔





امی کے مزاج کا رخ بڑی تیزی سے بدلا تھا۔وہ اُٹھ کر صائم کے قریب آبیٹھیں پھر ان کے لاڈ چائو انتہا کو جا پہنچے مگر ان کے چند جملے یقیناً اُڑتے پڑتے اس کے کانوں تک بھی پہنچ گئے تھے۔ تب ہی ان کی ’’مکھن بازیاں‘‘ رائیگاں گئیں۔ اولاد کے لیے یہ چکنے چپڑے رویے اس کے نزدیک ان کی اولاد کے بگاڑ کی اہم ترین وجہ تھے۔ کہا گیا ہے ناں کہ زیادتی ہر شے کی بری ہوا کرتی ہے تو ان کا حد سے زیادہ مؤدبانہ رویہ، بھی ان کی اولاد کو سرکش بنانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا تھا۔ غیر معمولی لاڈ اور ضرورت سے زیادہ چائو پورے کرنے کے اصولوں پر وہ اب بھی کاربند رہا کرتیں۔
کیا ہوا جو ان کی اولادوں کی سرکشی اور شخصیت کا بگاڑ ان کی زندگی سے منسلک لوگوںکے لیے آزار کا باعث بنا، بہوئوں کا تو رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے۔ اپنا لہو بھی پلا دیں تو رہیں گی تو بہویں ہی… پرائی اولاد، پرایا خون، بیٹے بیاہنے کا فرض ادا کرنا تھا، سو کردیا۔ بیٹا ہو یا بیٹی اس معاملے میں تمام فیصلے آنکھیں بند کر کے طے کرنے کا ان کا ریکارڈ پرانا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً کبھی کسی اور کبھی کسی اولاد کے غم کو لے کر بَین کرتے ہوئے کبھی نہ سوچتیں کہ ان معاملات میں وہ خود کس حد تک قصور وار ہیں۔ اپنے ناقص فیصلوں کو وہ بڑے دھڑلے سے نصیب کا لکھا، کہا کرتیں اور مزے کی بات یہ تھی کہ نصیبوں پر توکل ان کی لغت میں درج نہ تھا۔
…٭٭٭…
’’سیکنڈ کے ہزار ویں حصے میں یہ سب کچھ وقوع پذیر ہوا، اس کی کرنجی آنکھیں بار بار منتظر انداز میں سامنے کی جانب اُٹھ رہی تھیں مگر اس کی مطلوبہ بس کی آمد کے آثار تک نہ تھے۔ وہ خاصی جھلائی ہوئی اور برہم سی نظر آتی تھی۔ اس کی رنگت کی سپیدی میں دھوپ کی تپش کے باعث ہلکی ہلکی سرخی در آئی تھی جس نے اسے ایک انوکھا روپ عطا کر ڈالا تھا۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ کا رخ موڑ کر بار بار کلائی پر بندھی رسٹ واچ دیکھ رہی تھی۔ بالآخر وہ میرے نزدیک آئی اور بولی…‘‘
’’بھائی جان، ذرا اگلے نکڑ تک جانے کے لیے رکشہ تو پکڑ دیجیے۔‘‘
جہاںزیب کا سلسلہ تکلم عمیر کی باریک سی آوازنے توڑا۔ چونک کر اس نے بغور عمیر کو دیکھا جو نسوانی آواز میں قطع کلامی کے بعد اب خالص زنانہ انداز میں پلو مروڑنے کی اداکاری کررہا تھا۔
’’لاحول ولاقوۃ‘‘ جہاںزیب بیڈ پر پلتھی مارے آنکھیں بند کیے خاصے جذب کے سے انداز میں آج کی واردات کا احوال اس کے گوش گزار کر رہا تھا۔ جی بھر کے اس جملے پر بدمزہ ہوا۔
’’اس کے بعد کیا ہوا؟‘‘ عمیر مسکراتا ہوا پلٹ کر صوفے پر جا بیٹھا اور جیب سے پیکٹ نکال کر سگریٹ ہونٹوں میں دبائی۔
جہاںزیب نے بے تابی سے آگے بڑھ کر بنا آفر کے ہی سگریٹ کا پیکٹ جھپٹا تھا اور اس میں بچی ہوئی واحد سگریٹ نکال کر لبوں میں دبا لی۔ عمیر نے بھی بناء تعرض کیے لائٹر سے پہلے اس کی سگریٹ سلگائی پھر اپنی سگریٹ سلگا کر ایک گہرا کش لیا۔
ہائے
نہ پوچھ عہدِ رفتگاں کی یاد اے دوست
بس اک خواب پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے
نہ دل کا مدعا سمجھے
اس نے باقاعدہ شعر پڑھ کر ایک ٹھنڈی سانس بھری۔
’’پھر مجھے کچھ یاد نہیں، میں کہاں جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا اور کہاں جا پہنچا۔ یاد ہے تو بس ایک چہرہ جو ذہن و دل کے گوشوں میں اب بھی جھلملارہا ہے۔ اماوس کی سیاہ راتوں کی مانند اس کی سیاہ زلفیں جنہیں جھٹکتے ہوئے وہ خاصی بیزار اور جھلائی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ آخر اسے انتظار کس کا تھا۔‘‘ اس نے نیا نکتہ اٹھایا۔
’’تمہارا تو ہرگز نہیں رہا ہو گا، یہ تو طے ہے۔‘‘
’’حق… ہاہ… اس پری چہرہ کے دیدار سے دوبارہ مشرف ہونے کا کیا ذریعہ تلاش کیا جائے؟‘‘ جہاںزیب نے جیسے اس کا جملہ سنا ہی نہیں۔
’’مجھے تو صرف ذریعہ معاش کی فکر ہے، باقی فکرات تم پالو۔‘‘ عمیر جھلا اٹھا، پھر پوچھا۔ ’’کافی پیو گے؟‘‘
’’نیکی اور پوچھ پوچھ…‘‘ جہاںزیب مسکرا کر ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹ گیا۔
عمیر نے کچن کا رخ کیا۔
’’آج ماحول میں اتنا سکوت کیوں طاری ہے؟‘‘ اصغر حسب ِعادت دبے قدموں واردہوا تھا۔
جہاںزیب کسی دھیان سے چونکا اور تیزی سے اُٹھ بیٹھا۔
’’اصغر، تم ذرا اپنے جوتے تو اُتار کر دکھائو، تم نے ربڑ کا سول تو نہیں لگوا رکھا۔ اتنی خاموشی سے آتے ہو کہ خبر ہی نہیں ہو پاتی۔‘‘ اس نے خاصی بدمزگی سے اصغر کو دیکھا۔ گھٹنوں سے اونچی گول دامن والی قمیص اور لمبے

Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم   

Back to top Go down
 
محبت فاتح اعظم ۔۔۔۔۔۔۔سیما بنت عاصم
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Fun Mela :: Stories :: Non Adult Stories-
Jump to: